(19) شعائر شعیرہ کی جمع ہے، اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی نشانی ہو، اس لیے (شعائر اللہ) سے مراد اللہ کے دین کی نشانیاں ہیں، اور قربانی کے جانور اس میں بدرجہ اولی داخل ہیں، اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کے لیے ایسے جانور حاصل کرنا چاہیے جو بڑے، خوبصورت، موٹے تازے اور قیمتی ہوں اور خریدتے وقت زیادہ مول تول نہ کرے۔ صحابہ کرام اور اسلاف عظام تین چیزیں خریدتے وقت زیادہ نہیں گھٹاتے تھے۔ ہدی قربانی کا جانور اور غلام آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کے دین کی علامتوں کی تعظیم دلوں کے تقوی پر دلالت کرتی ہے یعنی ایسا کرنا اہل تقوی کا کام ہے۔
آیت (33) میں اللہ نے فرمایا کہ حاجیوں کے لیے ہدی کے جانوروں سے (انہیں قربانی کے دن حدود حرم میں ذبح کرنے سے پہلے تک) دیگر فوائد حاصل کرنا جائز ہے۔ بخاری و مسلم نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ ہانکے جارہا ہے تو اس سے کہا کہ اس پر سورا ہوجاؤ اس نے کہا یہ تو ہدی کا اونٹ ہے، تو آپ نے اس سے پھر کہا کہ تمہارا بھلا ہو اس پر سوار ہوجاؤ۔