فهرس الكتاب

الصفحة 3762 من 6348

ف 3 اس سے مقصود بھی دراصل قوم ہی کی توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کرجن جھوٹے معبودوں بتوں یا زندہ و مردہ ہستیوں کی تم بندگی کر رہ ہو ان کو یہ قدرت نہیں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کی پاداش میں تمہیں پکڑنا اور سزا دینا چاہیے تو وہ تمہیں اپنے زور سے سفارش کرکے اس کی گرفت سے چھڑا سکیں۔ اس سے اس سفارش کی نفی نہیں ہوتی جو قیامت کے دن انبیاء ( علیہ السلام) فرشتے یا اللہ کے نیک بندے کریں گے کیونکہ وہ سفارش زور کی نہیں ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد اسکے حضور میں التجا ہوگی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت