فهرس الكتاب

الصفحة 255 من 6346

بادشاہت کے جواز کی دلیل:

اگر بادشاہت جائز نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس مطالبے کو رد فرمادیتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ان کے لیے بادشاہ مقرر کردیا جو کہ ایک تیس سالہ نوجوان، خوبصورت اور قد آور شخص تھا اس پر بھی کئی لوگوں نے یہ اعتراض جڑدیا کہ طالوت کے پاس نہ مال و دولت ہے اور نہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ قیادت کے لیے مال و دولت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ طالوت میں تم سے زیادہ موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بادشاہ اگر احکام الٰہی کا پابند اور عدل و انصاف کرنے والا ہے تو اس کی بادشاہت جائز ہی نہیں بلکہ مطلوب و محبوب بھی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت