فهرس الكتاب

الصفحة 4574 من 6346

یعنی اس وقت کو یاد کرو جب کافروں کی آنکھوں سے پردے ہٹا دئیے جائیں گے اور وہ جہنم کی آگ دیکھ رہے ہوں گے یا اس کے قریب ہوں گے تو انھیں کہا جائے گا کہ تم اچھے کاموں کا بدلہ دنیا میں لے چکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے لہٰذا آج تمہارے لیے کچھ نہیں۔ آج انہیں ذلت کا عذاب ہے ان کے تکبر اور ان کے فسق کی وجہ سے۔ دنیا میں یہ نارو نعمت سے اپنی جانوں کو پالنے والے، نخوت و بڑائی سے اتباع حق کو چھوڑنے والے اور برائیوں اور نافرمانیوں میں ہمہ تن گوش رہنے والے تھے۔ تو آج اہانت آمیز عذاب اور رسوائی والے عذاب ملیں گے۔

مومنوں کا انداز فکر:

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بیٹے ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک دن (ان کے والد) عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ شام کے وقت روزہ افطار کرنے کے لیے جب ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو کھانے کی نعمتیں دیکھ کر کہنے لگے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (احد کے دن) شہید ہوئے وہ مجھ سے اچھے تھے ایک ایسی چادر میں ان کو کفن دیا گیا کہ اگر سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے رہ جاتے اور اگر پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا رہ جاتا۔ اور حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی اسی دن شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے۔ پھر اس کے بعد ہم لوگوں کو آسودگی اور فراوانی دی گئی اور ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری نیکیوں کا ثواب جلد ہی ہمیں دنیا میں نہ مل گیا ہو۔ پھر اس کے بعد رونے لگے اور اتنا روئے کہ کھانا بھی نہ کھایا۔ (بخاری: ۴۰۴۵)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت