فهرس الكتاب

الصفحة 462 من 6346

منافق اس دن اپنے قول و فعل کے اعتبار سے کفر سے زیادہ نزدیک تھے۔ وہ مونہوں سے ایسی باتیں کہتے تھے جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتی تھیں، ایمان کا اظہار کرتے ہیں مگر ایمان دلوں میں نہیں ہوتا تھا۔ عبداللہ بن اُبی کی طرف اشارہ ہے جب وہ اپنے تین سو ساتھیوں سمیت واپس جانے لگا تو مسلمانوں نے اُسے سمجھایا کہ آج مشکل وقت میں چھوڑ کر جارہے ہو اگر تم لڑنا نہیں چاہتے تو کم ازکم شہر مدینہ کا دفاع ہی کرو۔ اور مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت کرو۔ عبداللہ بن اُبی نے مسلمانوں کو جواب دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے واقف ہی نہیں پھر تمہارا ساتھ کیسے دے سکتے ہیں۔ دراصل یہ طنزیہ جواب تھا کہ جب ہمارے مشورے کو نہیں مانا اور چند پُرجوش جوانوں کے مشورہ کو ترجیح دی گئی کہ باہر کھلے میدان میں لڑنا چاہیے، اب وہی لوگ تمہارا ساتھ دیں گے فنون جنگ کو جاننے والے تو وہ لوگ ہوئے ہم کہاں ہوئے۔ دراصل عبداللہ بن اُبی چاہتا تھا کہ مسلمان تباہ و برباد ہوجائیں اور اُسے کھوئی ہوئی ریاست پھر سے مل جائے۔ بظاہر انھوں نے جواب دے دیا کہ اگر ہم لڑائی جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم ہے جو انھوں نے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت