فهرس الكتاب

الصفحة 1288 من 5761

کتاب: نماز میں بھول جانے کے متعلق احکام و مسائل

1288 أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ مِنْ كِتَابِهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَكَيْفَ الصَّلَاةُ قَالَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ قَالَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا بِهِ مِنْ كِتَابِهِ وَهَذَا خَطَأٌ

حضرت کعب بن عجزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! (تشہد میں) آپ پر سلام پڑھنا تو ہم جان چکے ہیں، لیکن درود کیسے پڑھیں؟ آپ نے فرمایا: ''تم یوں کہو: [اللھم! صل علی محمد ……… حمید مجید] ''اے اللہ!محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کی آل پر رحمتیں نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر رحمتیں نازل فرمائی ہیں۔ یقینًا تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جس طرح تو نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آل پر برکتیں نازل فرمائیں۔ یقینًا تو تعریف اور بزرگی والا ہے۔''

(راوی) ابن ابی لیلیٰ نے کہا: ہم ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے: ان کے ساتھ ساتھ ہم پر بھی (رحمتیں اور برکتیں نازل فرما۔)

امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث بھی ہمارے استاد گرامی (قاسم بن زکریا) نے اپنی کتاب سے دیکھ کر بیان کی تھی مگر اس کی سند غلط ہے

(۱) اس غلطی کی وضاحت آئندہ روایت میں آ رہی ہے کہ سلیمان کے استاد عمرو بن مرہ نہیں بلکہ حکم ہیںجیسا کہ حدیث: ۱۲۸۹ کی سند سے صاف معلوم ہو رہا ہے۔ لطیفہ یہ ہے کہ یہ روایت بھی قاسم بن زکریا ہی سے ہے۔ گویا انھوں نے ایک دفعہ سلیمان کے استاد کا نام عمرو بن مرہ بتایا، ایک دفعہ حکم۔ لیکن پہلی سند غلط ہے دوسری صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید دوسرے راوی بھی کرتے ہیں، مثلًا: (دیکھیے حدیث: ۱۲۹۰ کی سند) واللہ أعلم۔ (۲) یہ آخری الفاظ انھوں نے بطور دعا مزید کہے جن کا اصل حدیث سے کوئی تعلق نہیں، یعنی یہ درود کا حصہ نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت