فهرس الكتاب
بخاری رحمہ اللہ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ھو مقارب الحدیث۔''
محدثین کے ہاں یہ اصطلاح ایسے راوی کے قبول ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے، اس حدیث کے شواہد ہیں جس کی بناء پر اسے قابل عمل قرار دیا گیا ہے۔ مثلًا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت اسی فضیلت کے ساتھ مروی ہے۔
حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے۔
امام العصر علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو قابل عمل قرار دیا ہے۔ [1]
بہرحال اشراق کی مذکورہ فضیلت احادیث سے ثابت ہے، اسے ضعیف قرار دینا منہ زوری ہے۔ واللہ اعلم!