فهرس الكتاب

الصفحة 260 من 270

ہوئے کھانے کوکسی ایسی جگہ رکھنا واجب ہے جہاں اس کی بے ادبی نہ ہوتا آنکہ اسےمویشی کھا لیں اور اگر یہ بات میسر نہ ہو توکرتون میں یا ڈرموں میں یا ایسی ہی کسی دوسری چیز میں اس کی حفاظت واجب ہے اورہر شہر کی بلدیہ والوں کے لیے لازم ہے کہ وہ صفائی کے عملہ کوہدایت کریں کہ وہ ان کرتون وغیرہ کوصاف ستھری جگہ پر رکھیں تاکہ مویشی اسے کھالیں یا بعض لوگ اسے اپنے مویشیوں کے لیے لے جائیں۔ اس طرح بچا ہوا کھانا بےادبی اورضائع ہونےسےبچ رہے گا ۔

کھانا کھانے کےبعد ہاتھ ،برتن اوردوسری بچی ہوئی اشیاء دھونے کے لیےگھر میں سنک بنانے میں کوئی حرج ہے؟

سوال: کیا گھر یا عمارت کے مالک کے لیے یہ جائزہےکہ وہ اپنے گھر میں ایک سنک بنا لےجس میں ہر طرح کی چیزیں دھوئی جا سکیں اور کھانے سے فراغت کےبعد وہاں ہاتھ اور کھانےکےبرتن دھوئےجائیں؟

ابراہیم ۔س۔منطقہ الجنوب

جواب: کھانا کھانے کے بعد ہاتھ، برتن اور دوسری چیزیں دھونےکے لیے سنک بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ ہاتھوں یا برتنوں کی جوچکناہٹ لگ جاتی ہے وہ طعام نہیں ہے۔ البتہ روٹی، گوشت اور دوسری قسم کے کھانوں کوسنک میں پھنکنا جائزنہیں ہے۔ بلکہ اسے ان لوگوں کودینا چاہیے جو اس کے محتاج ہیں یا اسے کسی کھلی جگہ میں رکھ دینا چاہیے تاکہ ضرورت مند لوگ اسے اپنے جانوروں کےلیے لے جائیں یا بعض جانور اور پرندے اسے کھا لیں۔

بچے ہوئے کھانے کو قمامہ (ڈرم) میں ڈال دینا یا گندی جگہوں میں ڈالنا جائزنہیں ہے اوروہ ہی اسے راہ میں پھینک دینا جائز ہے۔ کیونکہ اس طرح اولا تو کھانے کی توہین ہوتی ہےاورثانیًا راہ چلنےوالوں کوتکلیف ہوتی ہے۔

زینت کے لیے پرندوں کوپنجروں میں بند رکھنے کا کیا حکم ہے؟

سوال:زینت یا کسی دوسری غرض کےلیے پرندوں کو پنجروں میں بند رکھنے کا کیا حکم ہے ؟

عادل۔ م۔ا

جواب:میرےخیال میں اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ پرندےسے اچھا سلوک کیا جائے اور اس کے کھانے پینےمیں کمی نہ ہونےدی جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت