(4) امام احمدبن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک
حنبلی مسلک کی مشہور کتاب"المغنی"میں کچھ اس قسم کے الفاظ ہیں:
''حنبلی مسلک میں اس بات پر اختلاف نہیں ہے کہ عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھ کھلا رکھنا جائز ہے۔ البتہ ان کے علاوہ کچھ اور کھلا رکھنا جائز نہیں ہے۔''
یہ تو ہوئی چاروں مشہور مسالک کی رائے ان کے علاوہ بھی دوسرے مشہور اور قابل قدر علماء اور فقہاء ہیں جن کی یہی رائے ہے۔ چنانچہ امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ بھی عورت کے ستر سے چہرے اور ہاتھ کو مستثنیٰ قراردیتے ہیں جیسا کہ ان کی کتاب المحلیمیں درج ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب المجموع میں اس موضوع پر علماء کی رائے لکھتے ہوئےکہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، شافعی رحمۃ اللہ علیہ، مالک رحمۃ اللہ علیہ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ، ابو ثور رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے بہت سارے علماء کی رائے یہ ہے کہ عورت کا پورا بدن سترہے۔ سوائے اس کے چہرے اور ہاتھ کے۔ یہی مسلک امام داؤد رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ یہ تمام علمائے کرام اپنے مسلک کی حمایت میں جو دلیلیں پیش کرتے ہیں انھیں میں ذیل میں مختصرًا بیان کرتا ہوں:
(1) قرآن کی آیت:
"وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ"
''اور وہ اپنی زینت و زیبائش کھلانہ رکھیں مگروہ جو خود بخود ظاہر ہو جائے۔''
کی تفسیر میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت"إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا"سے مراد چہرہ اور ہاتھ لیتی ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کے اس موقف کی تائید ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ کی یہ حدیث کرتی ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائیں۔ ان کے بدن پر باریک اور شفاف کپڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نگاہیں پھیر لیں اور فرمایا کہ اے اسماء عورت جب بالغ ہو جائے تو مناسب نہیں ہے کہ اس کے بدن کا کوئی حصہ نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے اور آپ نے چہرے اور ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔ اس مفہوم کی دوسری حدیثیں بھی ہیں۔