سنن نسائی کی ایک حدیث ہے جس کی روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سوال کرنے آئی ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی فضل ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ وہ اس عورت کی طرف بار بار مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ خوب صورت تھی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم با ربار فضل ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرہ دوسری طرف کر دیتے تھے۔
اگر چہرہ چھپانا ضروری ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو بھرے مجمع میں چہرہ کھلا رکھنے پر یقینًا تنبیہ کرتے اور خاص کر ایسی حالت میں کہ لوگ اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ ہو رہے تھے۔ سنن ترمذی میں یہی روایت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالہ سے مذکورہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن دوسری طرف موڑدی ان کے والد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ نے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گردن دوسری طرف کیوں گھمائی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میں نے ایک نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کو اس حالت میں یکھا کہ شیطان انھیں بہکانے میں مصروف تھا۔
علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر چہرہ کھلا رکھنا جائز نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کو اس کے کھلے چہرے پر ضرور تنبیہ کرتے۔ خاص کر ایسی حالت میں کہ شیطان ان دونوں کو بہکانے کی کوشش کر رہاتھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو چہرہ ڈھکنے کی بجائے صرف فضل ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ اپنا رخ دوسری طرف کر لیں۔ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی کام کی وجہ سے عورت سے بات کرنا ضروری ہواور شیطان کے بہکانے کا خوف نہ ہو تو اس کی طرف دیکھنا بھی جائز ہے۔
ایسی ہی ایک حدیث بخاری شریف میں ہے جس کی روایت حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز کے لیے گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم