فهرس الكتاب

الصفحة 250 من 328

لیے کہ مقصد کے نیک ہونے کے باوجود اس مقصد کو حاصل کرنے کا راستہ جائز نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى طَيِّبٌ لاَ يَقْبَلُ إِلاَّ طَيِّبًَا" (مسلم)

''اللہ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے۔''

اسی لیے علمائے کرام عمل صالح کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عمل صالح وہ ہے جس میں دو باتیں پائی جاتی ہوں۔ پہلی یہ کہ یہ عمل خالصتًا اللہ کے لیے ہواور دوسری یہ کہ اسلامی احکام اور شریعت کے مطابق ہو۔ اسلامی شریعت سے ہٹ کر انجام دیا ہوا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا عمل صالح عمل نہیں ہو سکتا ۔

طیارہ اغواکیس میں اغوا کنندگان کا دعوی یہ ہے کہ ان کا مقصد نیک وصالح ہے اور وہ کویتی جیلوں میں قید اپنے بعض ساتھیوں کی رہائی کی غرض سے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ان کے اس مقصد کو جائز اور احسن تسلیم کر لینے کے باوجود اس بات میں دو رائے نہیں کہ انھوں نے جو راستہ طریقہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی شرم ناک اور مذموم ہے۔ یہ ایک بدترین جرم ہے۔ اس صورت میں اس جرم کا گھناؤنا پن اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ انھوں نے یہ جرم اسلام کے نام پر اور خود کو متقی پر ہیز گار سمجھتے ہوئے کیا ہے۔ اپنے اس رویے سے وہ اسلام کی زبردست بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔

بلا شبہ اسلام کی نظر میں طیارے کا اغوا کرنا کسی صورت جائز نہیں ہے اور اب علمائے کرام پر فرض ہے کہ وہ دنیا والوں کے سامنے اسلام کے صحیح موقف کی وضاحت کریں اور انھیں پورے وثوق کے ساتھ بتائیں کہ اسلام اس عمل کی سختی کے ساتھ تردید کرتا ہے۔ اور ایسا کرنے والے صحیح مسلمان نہیں ہو سکتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت