فهرس الكتاب

الصفحة 225 من 406

ان دونوں احادیث کی روشنی میں خاتون ولی کی اجازت سے دوسری جگہ نکاح کرنے کا مجاز ہے۔

یہ فتویٰ اہلحدیث نقطۂ نظر سے ہے۔ اگر کیس عدالت میں ہو تو فتویٰ مؤثر نہ ہو گا۔ (عبد الرشید حنیف سمن آباد جھنگ لاہور) (تصدیق کنندہ: عبد العلیم یزدانی) (۱۷ اکتوبر ۱۹۹۷ء)

جواب الجواب: صورتِ مسئولہ کی صحت کے پیشِ نظروالد کا کیا ہوا نکاح نافذ ہے اور والد کے کیے ہوئے نکاح کو شرعًا لڑکی بلوغت کے بعد فسخ (توڑ) نہیں کر سکتی۔ لہٰذا بعد البلوغ لڑکی کا انکار معتبر نہیں ہے۔ اس لیے جب تک خاوند بالغ طلاق دے کر فارغ نہ کرے اس وقت تک مذکورہ لڑکی کا آگے نکاح کرنا شرعًا جائز نہیں؟

(( وَالدَّلِیْلُ عَلٰی مَا قُلْنَاہُ مَا فِی شَرْحِ الْبِدَایَۃِ فَان زَوْجَہُمَا الاب وَالجَدّ یَعْنِی الصَّغِیْرُ وَالصَّغِیْرَۃ فَلَا خِیَارَ لَہُمَا بَعْدَ بَلُوْغِہِمَا لِاَنَّہُمَا کَامِلًا الرَّأْی وَافرا الشَّفْقَۃ۔ ) ) [1]

مذکورہ بالا مسئلہ پر کتبِ فتاویٰ کے علاوہ شارحینِ حدیث نے اجماع بھی نقل فرمایا ہے جو درج ذیل ہیں:

(( وَأَجْمَعَ الْمُسْلِمُونَ عَلَی جَوَازِ تزویجہ بنتہ الْبِکْرَ الصَّغِیرَۃَ لِہَذَا الْحَدِیثِ وَإِذَا بَلَغَتْ فَلَا خِیَارَ لَہَا فِی فَسْخِہِ ۔ ) ) [2]

اس اجماع کو حضرت ملا علی قاری نے ''مرقاۃ'' (ج: ۶، ص: ۲۰۶) اور غیر مقلدین کے امام سید علامہ ابوطیب صدیق بن حسن الحسینی نے اپنی مایہ ناز ''کتاب السراج الوھاج من کشف مطالب صحیح مسلم ابن الحجاج'' کے (ج:۱ ص: ۵۱۸) '' بَابُ تَزْوِیْج الصَّغِیْرَۃ''میں نقل کیا ہے بلفظہٖ)

خلاصۂ کلام: مذکور عبارت سے واضح ہوا کہ مسلمانوں کا اس بات پر متفقہ فیصلہ ہے کہ نا بالغہ بچی کا نکاح والد کروا سکتا ہے اور نابالغہ بچی بعد البلوغ اسے ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ کَمَا لَا یخْفی عَلَی الْمُتَأَمَّلِ۔

صورتِ مسئولہ یعنی جس نا بالغہ بچی کا نکاح والد خود کروائے اسے بلوغت کے بعد اس نکاح کو رد کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اس پر غیر مقلّد عالم کا دعویٰ بجوابِ جواب بایں الفاظ منقول ہے۔ صورتِ مسئولہ… نابالغہ کو بلوغت پر اختیار '' اس پر دلائل ، امام بخاری رحمہ اللہ نے باب باندھا ہے۔

'بَابُ إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَہُ وَہِیَ کَارِہَۃٌ فَنِکَاحُہُ مَرْدُودٌ '

اور حدیث حضرت خنساء والی نقل کی ہے۔

جب کہ یہ دلیل ان کے دعویٰ کا اثبات سے قاصر ہے اور فی نفسہٖ غیر مؤثر ہے کیوں کہ اسی حدیث پر علامہ ابن حجر رحمہ اللہ

[2] شرح النووی علی مسلم،ج:۱،ص:۴۵۶

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت