الصفحة 14 من 48

سینے پر ہاتھ باندھنا

دلیل نمبر ۱:

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ،

"ثم وضع یدہ الیمنیٰ علی ظھر کفہ الیسریٰ والرسغ والساعد"پھر آپ نے دایاں ہاتھ بائیں ہتھیلی، کلائی اور (ساعد) بازوپر رکھا۔

صحیح ابن خزیمہ (۲۴۳/۱ ح ۴۸۰، ۷۱۴( صحیح ابن حبان (۱۶۷/۳ ح ۱۸۵۷ والموارد: ۴۸۵( مسند احمد (۳۱۸/۴ ح ۱۹۰۷۵( سنن نسائی(۱۲۶/۲ ح ۸۹۰( سنن ابی داؤد مع بذل المجہود (۴۳۷/۴، ۴۳۸ ح ۷۲۷ وسندہ صحیح(جائزہ:۱۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ: صحابی جلیل (تقریب التہذیب: ۷۳۹۳(۲۔ کلیب: صدوق (تقریب التہذیب: ۵۶۶۰(۳۔ عاصم بن کلیب: صدوق رمی بالارجاء (تقریب التہذیب: ۳۰۷۵(یہ صحیح مسلم کے راوی ہیں۔۴۔ زائدہ بن قدامہ: ثقۃ ثبت صاحب سنۃ (تقریب التہذیب: ۶۹۸۲(۵۔ ابوالولید ہشام بن عبدالملک الطیالسی: ثقۃ ثبت(تقریب التہذیب: ۷۳۰۱(۶۔ الحسن بن علی الحلوانی: ثقۃ حافظ لہ تصانیف (تقریب التہذیب: ۱۲۶۲(

معلوم ہوا کہ یہ سند صحیح ہے۔

نیموی نے بھی آثار السنن (ص۸۳) میں کہا:"واسنادہ صحیح"تشریح:"الکف والرسغ والساعد"اصل میں ذراع (حدیث بخاری: ۷۴۰) کی تشریح ہے۔ المعجم الوسیط (۴۳۰/۱) میں ہے:"الساعد: مابین المرفق الکف من اعلی"ساعد کہنی اور ہتھیلی کے درمیان (اوپر کی طرف) کو کہتے ہیں۔

تنبیہ:"الساعد"کے مراد پوری"الساعد"ہے بعض الساعد نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت