الصفحة 25 من 48

"وھٰذا اسناد جید" (تفسیر ابن کثیر ۴۲۳/۴ سورۃ المعارج( وکذلک جودلہ فی مسند الفاروق(۳۶۷/۱)

معلوم ہوا کہ مؤمل مذکور حافظ ابن کثیر کے نزدیک جید الحدیث یعنی ثقہ صدوق ہیں۔13۔ الضیاء المقدسی:"اورد حدیثہ فی المختارۃ" (۳۴۵/۱ ح ۲۳۷) معلوم ہوا کہ مؤمل حافظ ضیاء کے نزدیک صحیح الحدیث ہیں۔

* ابوداؤد:"قال ابو عبید الآجری: سالت ابا داؤد عن مؤمل بن اسماعیل فعظمہ ورفع من شانہ الا انہ یھم فی الشیئ۔ (تہذیب الکمال ۵۲۷/۱۸(اس سے معلوم ہوا کہ ابوداؤد سے مروی قول کے مطابق مؤمل ان کے نزدیک حسن الحدیث ہیں لیکن ابوعبیدالآجری کی توثیق معلوم نہیں لہٰذا اس قول کے ثبوت میں نظر ہے۔​15۔ حافظ الہیثمی:"ثقۃ وفیہ ضعف"(مجمع الزوائد ۱۸۳/۸(یعنی مؤمل حافظ ہیثمی کے نزدیک حسن الحدیث ہے۔16۔ حافظ النسائی:"روی لہ فی سننہ المجتبی۴۰۹۷،۴۵۸۹، السلفیہ(ظفر احمد تھانوی دیوبندی نے کہا:"وکذا کل من حدث عنہ النسائی فھو ثقۃ"(قواعد علوم الحدیث ص ۲۲۲(

یعنی السنن الصغریٰ کے جس راوی پر امام نسائی جرح نہ کریں وہ (عام طور( ان (ظفر احمد تھانوی اور دیوبندیوں( کے نزدیک ثقہ ہوتا ہے۔

17۔ ابن شاہی:"ذکرہ فی کتاب الثقات" (ص۲۳۲ ت ۱۴۱۶(18۔ الاسماعیلی:"روی لہ فی مستخرجہ(علیٰ صحیح البخاری) "(انظر فتح الباری ۳۳/۱۳ تحت ح ۷۰۸۳(

* ابن حجر العسقلانی:"ذکر حدیث ابن خزیمۃ (وفیہ مؤمل بن اسماعیل) فی فتح الباری"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت