فهرس الكتاب

الصفحة 207 من 398

نہیں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کردیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر نبی کے فرمان اور کاہن کی پیشین گوئی میں فرق باقی نہ رہے گا۔ کیا ہم اس حدیث کی مضحکہ خیز تاویلیں کر کے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ حدیث مع ترجمہ درج ذیل ہے:

'أَوَّلُ جَیْشٍ مِّنْ أُمَّتِي یَغْزُونَ مَدِینَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُورٌ لَّہُمْ'

''میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جہاد کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے۔'' [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت