فهرس الكتاب

الصفحة 57 من 398

''میری امت کے کچھ لوگ (دلائل حقہ کے اعتبار سے) غالب رہیں گے، یہاں تک کہ ان کے پاس اللہ کا حکم آجائے اور وہ غالب ہی ہوں گے۔'' [1]

صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں:

'لَا تَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ أُمَّتِي یُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ، ظَاہِرِینَ إِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ'

''میری امت کا ایک گروہ حق کے لیے لڑنے والا ہمیشہ رہے گا، قیامت تک (دلائل کے اعتبار سے) وہ غالب رہے گا۔'' [2]

ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

'مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْرًا یُّفَقِّھْہُ فِي الدِّینِ، وَلَا تَزَالُ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِینَ یُقَاتِلُونَ عَلَی الْحَقِّ ظَاھِرِینَ عَلٰی مَنْ نَاوَأَھُمْ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ'

''جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ حق کے لیے لڑنے والا ہمیشہ رہے گا، اپنے مخالفین پر (دلائل کے اعتبار سے) قیامت تک غالب رہے گا۔'' [3]

اس حدیث کے مختلف طرق اور الفاظ سے حسب ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں:

٭ مسلمانوں کی اکثریت حق سے منحرف ہو جائے گی، کہلانے کی حد تک وہ مسلمان ہی کہلائے گی لیکن وہ صراط مستقیم پر چلنے والی نہ ہو گی۔

[2] صحیح مسلم، الإیمان، باب نزول عیسی بن مریم حاکمًا…، حدیث: 156۔

[3] صحیح مسلم، الإمارۃ، باب قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: 'لا تزال طائفۃ من أمتي…' ، حدیث: 1037 بعد حدیث: 1923۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت