الصفحة 19 من 37

''وہ مرجئی تھا،محدِّثین کے نزدیک وہ حدیث روایت کرنے میں ضعیف تھا، اور وہ نابینا تھا۔''

13 امام الساجی کہتے ہیں:

(تُرِکَ لِرَأْیِہٖ وَاتَّھَمُوْہُ)

''اسے اتّباعِ رائے کی وجہ سے چھوڑدیا گیا اور محدِّثین نے اسے متَّہم قرار دیا ہے۔''

14امام الجوزقانی کہتے ہیں:

(کَانَ اَبُوْ مُطِیْعٍ مِنْ رُؤَسَائِ الْمُرْجِئَۃِ مِمَّنْ یَّضَعُ الْحَدِیْثَ وَیُبْغِضُ السُّنَنَ)

''ابو مطیع مرجیؤ ں کے سرغنوں سے تھا جو حدیثیں گھڑتا تھا اور سنن سے عداوت رکھتا تھا۔''

15 لسان المیزان میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہاہے:

(قَدْجَزَمَ الذَّھْبِیُّ بِأَنَّہٗ وَضَعَ حَدِیْثًا)

''امام ذہبی نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ اِس نے حدیث گھڑی ہے۔''

امام الذہبی نے میزان الاعتدال (۱/۵۷۴) میں تین حدیثیں اس زیرتعارف راوی کی سند سے نقل کی ہیں اور حافظ ابن حجر نے میزان الاعتدال سے اپنی کتاب لسان المیزان (۲/۳۸۰) میں یہ حدیثیں اس کذّاب کی سند سے ذکر کی ہیں ۔ان میں ایک یہ حدیث بھی ہے جسے محترم نے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ [1]

پس حکم بن عبداللہ ابو مطیع البلخی جو اس زیر بحث حدیث کا راوی ہے،اُسے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت