فهرس الكتاب

الصفحة 85 من 96

عادتِ مبارکہ تھی ''۔ما ثبت بالسنہ ص: ۲۹۲ ۔

2۔ اپنی دوسری کتاب مدارج النّبوہ [ فارسی ] میں تحریر کرتے ہیں:

''تحقیق اور صحیح یہی ہے کہ نبی ﷺ ماہِ رمضان میں گیارہ رکعت [ تراویح ] ہی پڑھا کرتے تھے جو کہ آپ ﷺ تہجد میں ہمیشہ پڑھا کرتے تھے جیسا کہ معروف ہے ''۔مدارج النبوہ ۱؍۴۶۵ ۔

نفحاتِ رشید میں لکھا ہے:

''نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے وتر سمیت گیارہ رکعات تراویح سے زیادہ نہیں پڑھیں ، نہ رمضان میں اور نہ غیر رمضان میں ''۔نفحاتِ رشیدبحوالہ مسک الختام ۱؍۲۸۹ ۔؎

1۔ مولانا احمد علی سہارنپوری نے اپنے حاشیہ بخاری شریف میں لکھا ہے:

''قیامِ رمضان [ تراویح ] گیارہ رکعت مع وتر سنّت ہے، جسے نبی ﷺ نے باجماعت ادا کیا ہے'' ۔حاشیہ بخاری شریف ۱؍۱۵۴

2۔ اور ہدایہ کی شرح عین الہدایہ میں موصوف لکھتے ہیں:

''صحیح حدیث کی رو سے وتر سمیت نمازِ تراویح کی صرف گیارہ رکعتیں ہی ثابت ہیں ''۔عین الہدایہ ،ص: ۵۶۲۔

3۔ او ریہی بات انھوں نے اپنی بعض دیگر کتب میں بھی کہی ہے ۔دیکھیئے: المفاتیح لاسرار التراویح ص:۹ )

1۔ ابو الحسن شرنبلالی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں لکھتے ہیں:

''یہ بات ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے با جماعت گیارہ رکعتیں تراویح مع وتر پڑھائی تھیں ''مراقی الفلاح ،ص: ۳۴۷۔

2۔ اور اپنے فتاویٰ شرنبلانی میں وہ لکھتے ہیں:

''نبی ﷺ نے صرف گیارہ رکعتیں مع وتر باجماعت پڑھائی ہیں اور بیس رکعتوں والی روایت ضعیف ہے''۔فتاویٰ شرنبلالی ۔

شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی نے مؤطا کی فارسی شرح مصفّیٰ میں لکھا ہے:

''رسول اللہ ﷺ کے عمل سے [ تراویح کی ] گیارہ رکعتیں ایک ثابت شدہ حقیقت ہے؟''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت