الصفحة 142 من 175

مشرکین کے بچے اور عورتیں بھی قتل ہوجائیں تو درست ہے۔

عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَۃَ قَالَ: قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم اِنَّانُصِیْبُ فِی الْبَیَاتِ مِنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِیْنَ، قَالَ (( ہُمْ مِنْہُمْ ) )رَوَاہُ مُسْلِمٌ [1]

حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رات کے حملہ میں مشرکوں کے ساتھ ان کے بچے بھی ہم سے قتل ہوجاتے ہیں (اس بارے میں کیا حکم ہے؟) ''آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''وہ انہی میں سے ہیں۔'' اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت