دَرَجَةً '' [1]
سفید بال مومن کا نور ہے جس کسی شخص کے بال اسلام میں سفید ہوتے ہیں اسے ہر ہر بال کے عوض ایک ایک نیکی ملتی ہے اور ایک درجہ بلند ہوتا ہے۔
۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًاروایت ہے:
'' لا تنتِفوا الشَّيبَ فإنَّه نورٌ يومَ القيامةِ ومَن شاب شيبةً في الإسلامِ كُتِب له بها حسنةٌ وحُطَّ عنه بها خطيئةٌ ورُفِع له بها درجةٌ '' [2]
سفید بال نہ اکھیڑو، کیونکہ وہ قیامت کے روز روشنی ہوگا، اور جس
[2] صحیح ابن حبان، ۷/۲۵۳، حدیث (۲۹۸۵) ، اس کی سند علامہ شعیب ارنووط نے حسن کہا ہے، نیز علامہ البانی نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (۳/۲۴۷، حدیث:۱۲۴۳) میں حسن قرار دیا ہے۔