فهرس الكتاب

الصفحة 34 من 112

لیے قربانی کرنا ثابت ہے۔امام ابوداؤد نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے:

[بَابٌ فِي الْمُسَافِرِ یُضَحِّي] [1]

[مسافر کے قربانی کرنے کے متعلق باب]

امام نووی اس حدیث کی شرح میں تحریر کرتے ہیں:اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے،کہ جس طرح مقیم کے لیے قربانی کرنا مشروع ہے،اسی طرح مسافر کے لیے مشروع ہے۔ [2]

علاوہ ازیں اس حدیث شریف سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے،کہ حاجی کے لیے عید الاضحی کی قربانی دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

۲: امام بخاری نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:

''فَلَمَّا کُنَّا بِمِنٰی اُتِیْتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ،فَقُلْتُ:''مَا ہٰذَا''؟

قَالُوْا:''ضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَنْ اَزْوَاجِہٖ بِالْبَقَرِ۔'' [3]

''پس ہم جب منیٰ میں تھے،تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا،تو میں نے دریافت کیا:''یہ کیسا [گوشت] ہے؟''

انہوں نے جواب دیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے۔''

امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے:

[بَابُ الْأُضْحِیَّۃِ لِلْمُسَافِرِ وَالنِّسَائِ] [4]

[2] ملاحظہ ہو:شرح النووي ۱۳؍۱۳۴۔

[3] صحیح البخاري،کتاب الأضاحي،جزء من رقم الحدیث ۵۵۴۸،۱۰؍۵۔

[4] المراجع السابق ۱۰؍۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت