یا گائے میں شریک ہوجائیں۔''
۲: امام مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا:
''نَحَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم عَامَ الْحُدَیْبِیَّۃِ الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔'' [1]
''ہم نے حدیبیہ کے سال [یعنی صلح حدیبیہ کے موقع پر] سات سات آدمیوں کی جانب سے اونٹ اور گائے کو ذبح کیا۔''
۳: امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے کہا:
''کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰهُ عليه وسلم فِي سَفَرٍ،فَحَضَرَ الْأَضْحَی،فَاشْتَرَکْنَا فِي الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃٌ،وَفِي الْبَعِیْرِ عَشَرَۃٌ۔'' [2]
''ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے،عید الاضحی آئی،تو ہم گائے [کی قربانی] میں سات اشخاص اور اونٹ [کی قربانی] میں دس اشخاص شریک ہوئے۔''
مذکورہ بالا احادیث شریفہ سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:
۱: حج اور عید الاضحی کے موقع پر قربانی کے لیے ذبح کئے جانے والے اونٹ اور گائے میں ایک سے زیادہ اشخاص شریک ہوسکتے ہیں۔
۲: حج اور عید الاضحی کی قربانی کے لیے ذبح کی جانے والی گائے میں سات افراد
[2] جامع الترمذي،أبواب الأضاحي،باب الاشتراک فی الأضحیۃ،رقم الحدیث ۱۵۳۷،۵؍۷۲؛ وسنن ابن ماجہ،أبواب الأضاحي،عن کم تجزی البدنۃ والبقرۃ؟رقم الحدیث ۳۱۶۹،۲؍۲۰۵۔الفاظ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:صحیح سنن ابن ماجہ ۲؍۲۰۰) ۔