نوجوانوں کو پرفتن دور میں اس سے دور رہناچاہیے کیونکہ ایسے بہت سے لوگ یاجماعتیں موجودہیں جو دین کا نام لے کر اس کی آڑ میں ان کے جذبات کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کےلیے استعمال کرتےہیں،اور پھر بالآخر معاملہ گمراہی وبربادی پر جاکر ختم ہوتاہے۔
حزبیت سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
اب ان اسباب کوبیان کیاجاتاہے کہ جن کو اختیار کرنےسے ہم اپنے آپ کو اس لعنت سے محفوظ رکھ سکتےہیں:
(1) حزبیت سے بچنے کےلیے ہر صاحب ایمان شخص پر لازم ہے کہ وہ کتاب وسنت سے اپناتعلق پختہ اور مضبوط کرےکیونکہ یہ وہ اصل اصیل ہے جس کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتوانسان ہر قسم کےفتنوں سے محفوط ہوجاتاہے،اللہ پاک کا فرمان ہے:
[ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ھُدِيَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ 101ۧ ] [سورہ آل عمران:101]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے:
'' ترکت فیکم أمرین لن تضلوا ماتمسکتم بہما کتاب اللہ وسنۃ رسولہ'' [1]
'' میں تم میں دوچیزیںچھوڑے جارہاہوں جب تک مضبوطی سے تھامے رکھوگے توگمراہ نہیں ہوگے ،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت''۔
(2) صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین اور تابعین کرام و سلف صالحین کے منہج کواختیار کرنا اور اس پر تادم حیات قائم رہنا،یہ بھی انسان کو فتنوں سے دور رکھتاہے،اور اللہ تعالی نے اسے'' سبیل المؤمنین'' سے تعبیر کیاہے،اس سے بھٹک جانے والے کو گمراہ قراردیاہے۔ [سورہ نساء:115]
(3) دینی علوم کے حصول کےلیےصحیح منہج کےحامل مربی علماکے سامنے زانوئے تلمذ بچھانا:منہج سلف کے حامل علما کی صحبت اور ان کی مجالس علمیہ سے استفادہ انسان کو فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے،لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو علما سے متعلق نصیحت کرتےہوئے کہا