ان خانقاہوں کے گدی نشینوں اور مجاوروں کے حجروں میں جنم لینے والی حیاء سوز داستانیں توکلیجہ منہ کو آتا ہے'ان خانقاہوں پر منعقد ہونے والے سالانہ عرسوں میں مردوں 'عورتوں کا کھلے عام اختلاط 'عشقیہ اور شرکیہ مضامین پر مشتمل قوالیاں [1] ڈھول ڈھمکے کے ساتھ نوجان ملنگوں اور ملنگنیوں کی دھمالیں 'کھلے بالوں کے
ابن زہرہ کو بنایا گیا اولیاء انبیاء کو بلایا گیا مرحبا' مرحبا 'مرحبا ' مرحبا
جاگنے کو مقدر ہے انسان کا عرس ہے آج محبوب سبحان کا
ہر طرف آج رحمت کی برسات ہے ' آج کھلنے پر قفل مہمات ہے
ہر سو جلوہ آرائی ذات ہے ' کوئی بھرنے پہ کشکول حاجات ہے
وحدت' وحدت' وحدت' وحدت' وحدت
تیرے خزانہ میں سوائے وحدت کے کیا رکھا ہے ؟
مظہر ذات رب قدیرآپ ہیں 'دستگیر آپ ہیں
شاہ بغداد پیران پیر آپ ہیں ' دستگیر آپ ہیں
پوری سرکار سب کی تمنا کرو
ہر بھکاری کی داتا جی جھولی بھرو
کسے شئے دی نئیں داتا کول تھوڑ اے ' پوری کرداں سوالیاں دی لوڑ اے
گل جھوٹ نہیں اﷲدی سونہہ میری ' توں سچے دلوں دیکھ منگ کے