فهرس الكتاب
سے پہلے انہوں نے لکھی تھی اور حج سے واپس آنے کے بعد انہوں نے ایسی تمام باتوں سے رجوع کرلیا تھا اور وہ صحیح العقیدہ ہوگئے تھے یہ بات میں نے جماعت اہل حدیث سے تعلق رکھنے والے احباب سے سنی لیکن یہ تحریرات جو میں نے نقل کی ہیں ان کی کتاب انفاس العارفین سے ماخوذ ہیں اور انفاس العارفین ان کی حج کے بعد کی تالیف ہے اس کتاب کے آخر میں وہ لکھتے ہیں۔
اس بارہ سال کے عرصے کے بعد میرے سر میں حر مین شریفین کی زیارت کا سوداسمایا۔۱۱۴۳ ھ کے اواخر میں حج کی سعادت سے مشرف ہوا اور ۱۱۴۴ ھ میں مجاورت مکہ مکرمہ زیارت مدینہ شیخ ابوطاہر قدس سرہ اور دوسرے مشائخ حرمین سے روایت حدیث کا شرف حاصل کیا اسی دوران حضرت سید البشر علیہ افضل الصلوات واتم التحیات کے روضہ اقدس کو مرکزتوبہ بناکر فیوض حاصل کئے علماء حرمین اور دیگر لوگوں کے ساتھ دلچسپ صحبتیں رکھیں اور شیخ ابوطاہر سے خرقہ جامعہ حاصل ہوگیا جو بلاشبہ تمام اسلامی خرقوں کا جامع ہے اسی سال کے آخر میں فریضہ حج ادا کیا ۱۱۴۵ھ میں عازم وطن ہوا اور اسی سال بروز جمعہ ۱۴ رجب المرجب صحیح سالم وطن پہنچ گیا اس سے تھوڑا آگے ان کے یہ الفاظ ہیں اور طریقۂ سلوک جو خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک بہت پسندیدہ ہے اور جسے اس دور میں رائج ہونا ہے وہ مجھے الہام کیا گیاجسے میں نے اپنے دورسالوں لمعات اور الطاف القدس میں قلم بند کردیاہے۔
شاہ صاحب کے یہ الفاظ اور طریقہ سلوک صوفیت کے طریقے کی طرف اشارہ کرتے ہیں شاہ صاحب کی کتاب انفاس العارفین سے تویہی مترشح ہوتا ہے کہ وہ اس کتاب کی تالیف تک