فهرس الكتاب

الصفحة 68 من 107

''اے بلال ! لوگوں میں اعلان کرو کہ کل روزہ رکھیں ۔''

ج-:صحابہ میں سب سے آخر میں مرنے والے:

صحابہ میں سب سے آخر میں مرنے والے علی الاطلاق: عامر بن واثلہ لیثی رضی اللہ عنہ ہیں ' جن کا مکہ مکرمہ میں سن ۱۱۰ ھجری میں انتقال ہوا۔ [1]

مدینہ میں سب سے آخر میں مرنے والے: محمود بن ربیع الأنصاری الخزرجی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جن کا انتقال سن ۹۹ ہجری میں ہوا۔ [2]

شام میں سب سے آخر میں مرنے و الے: دمشق میں حضرت واثلۃ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا سن ۸۶ ہجری میں انتقال ہوا۔ [3]

حمص میں سب سے آخر میں مرنے والے: عبداللہ بن بسر المازنی رضی اللہ عنہ ہیں ' جن کا انتقال سن ۹۶ ہجری میں ہوا۔ [4]

بصرہ میں سب سے آخر میں مرنے والے: أنس بن مالک انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ ہیں ' جن کا انتقال سن ۹۳ ہجری میں ہوا۔ [5]

کوفہ میں سب سے آخر میں مرنے والے: عبد اللہ بن ابی أوفی اسلمی رضی اللہ عنہ ہیں ' جن کا انتقال سن ۸۷ ہجری میں ہوا۔ [6]

[2] الاستعیاب في معرفۃ أصحاب ۱/۴۲۹۔ اسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ ۱/۹۹۳۔ الإصابۃ في تمیز الصحابۃ برقم ۱۰۶۴۹ ج ۷/۴۱۶۔

[3] الاستعیاب في معرفۃ أصحاب ۱/۴۹۵۔ اسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ ۱/۱۰۹۹۔ الإصابۃ في تمیز الصحابۃ برقم ۹۰۹۳ ج ۶/۵۹۱۔

[4] الاستعیاب في معرفۃ أصحاب ۱/۲۶۳۔ اسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ ۱/۵۸۵۔

[5] تہذیب التہذیب ۳/۳۶۹۔ الاستعیاب في معرفۃ أصحاب ۱/۳۵۔ اسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ ۱/۷۹ الإصابۃ في تمیز الصحابۃ برقم ۲۷۷ ج ۱/۱۲۶۔

[6] الاستعیاب في معرفۃ أصحاب ۱/۲۶۱۔ اسد الغابۃ في معرفۃ الصحابۃ ۱/۵۸۴۔ الإصابۃ في تمیز الصحابۃ برقم ۶۱۶۸ ج ۵/۸۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت