۳: {أَوْ آبَائِ بُعُولَتِہِنَّ} ''اپنے خاندوں کے باپوں سے پردہ نہیں۔'' یعنی خسر سے جس کو لوگ سسر بولتے ہیں تو خسر میں خسر کا باپ دادا اور اوپر تک شامل ہیں۔
۴: {أَوْ أَبْنَائِہِنَّ} ''بیٹوں سے پردہ نہیں'' بیٹوں میں پوتا' پڑپوتا' نواسہ' پڑنواسہ تک شامل ہیں۔
۵: {أَوْ أَبْنَائِ بُعُوْلَتِہِنَّ} ''اپنے خاوند کے لڑکوں سے پردہ نہیں (یعنی خواہ وہ اس عورت سے ہوں یا پچھلی بیوی سے ہوں) خاوند کے بیٹوں میں پوتے' پڑپوتے نیچے تک شامل ہیں۔
۶: {أَوْ اِخْوَانِہِنَّ} ''بھائیوں سے پردہ نہیں۔'' بھائیوں میں تینوں قسم کے بھائی: عینی (ماں اور باپ سے) ' علاتی (جن کا باپ ایک ہو) اور اخیافی (جن کی ماں ایک ہو) سب شامل ہیں اور ان کے بیٹے' پوتے اور پڑپوتے بھی شامل ہیں۔
۷: {أَوْ بَنِیْ اِخْوَانِہِنَّ} ''بھتیجوں سے پردہ نہیں۔'' بھتیجوں میں ان کے بیٹے بھی شامل ہیں۔
۸: {أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ} ''بھانجوں سے بھی پردہ نہیں۔'' اور بھانجوں میں تینوں قسم کی بہنوں (عینی' علاتی' اخیافی) کی اولاد شامل ہے۔
۹: {أَوْ نِسَائِ ہِنَّ} ''اپنی میل جول کی عورتوں سے بھی پردہ نہیں۔'' چنانچہ کافر عورت
کے سامنے زینت کا اظہار جائز نہیں۔
۱۰: {أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ} ''اپنی لونڈیوں اور غلاموں سے بھی پردہ نہیں۔''
۱۱: {أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ أُولِی اْلِارْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ} ''ایسے نوکروں سے بھی پردہ نہیں جو خصی' نامرد اور بے وقوف اور بالکل بوڑھے ہوں' جن میں جنسی خواہش کا نام بھی نہ ہو۔''