''اس (جہنم) کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔''
جب گندھک کے پتھر آگ میں ڈالے جائیں گے تو اس سے بہت بڑے شعلے پیدا ہوں گے۔
فرمایا: {اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ} ( المرسلات:32)
''وہ آگ محل جیسے بڑے بڑے شعلے پھینکے گی۔''
جہنم کا کھانا
اِرشاد باری تعالیٰ ہے: {لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍO لَّا يُسْمِنُ وَ لَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ} (الغاشیہ 6…7)
''ان کے لیے خاردار سوکھی گھاس کے علاوہ کوئی کھانا نہ ہو گا۔جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔''
پھر فرمایا: {اِنَّ لَدَيْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِيْمًاO وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِيْمًا} ) (المزمل: 12…13)
''یقینا ہمارے پاس بھاری بیٹریاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب ہے۔''
عبد اللہ بن عباس اس آیت {وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِيْمًا} کی تفسیر میں فرماتے ہیں:یہ ایسا کانٹا ہے جو حلق کو پکڑ لے گا نہ حلق سے اترے گا اور نہ باہر نکل سکے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَO لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍO فَمَالِ۔ُٔوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَO فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيْمِO فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِيْمِO هٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّيْنِ} (الواقعہ: 51…56)