فهرس الكتاب

الصفحة 184 من 372

یونانی عورت کی شادی اس کی مرضی کے بغیرکردی جاتی اس کی مرضی کاکوئی خیال نہ رکھاجاتاتھا۔۱۹؎

سیدامیرعلی لکھتے ہیں کہ یونانیوں کے ہاں عورت کی حیثیت لونڈی کی سی تھی۔جیسے فروخت کیاجاتا اوردوسروں کے حوالے کردیاجاتاتھا۔اسے ایک ایساناگزیربرانی سمجھاجاتاتھا۔جوامورخانہ داری اوربچوں کی پرورش کے لیے ضروری تھی۔۲۰؎

مصریوں کے ہاں

مصرمیں بھی فارس کی عورت کی طرح اس کی کوئی قدروقیمت نہ تھی۔اسے حقیرجان کر انسانیت کے تمام حقوق سے محروم کیاگیا۔

فداحسین ملک لکھتے ہیں:

مصراوریورپی ممالک میں عورتوں سے جوسلوک کیاجاتاتھا وہ غلاموں سے بھی بدترتھا۔۲۱؎

یہودیوں کے ہاں

کتاب مقدس میں لکھاہے:

''عورت بعض حالات میں ملک کی ملکیت قرار دی جاتی یاقوم کی ملکیت ہوتی تھی۔جس کاثبوت یوں ملتاہے کہ ان کے ہاں ہرشخص کانام اسرائیل میں باقی رہناضروری تھا۔اوراس مقصد کے حصول کے لیے عورت کی خواہشات اورعزت نفس کی کوئی حیثیت نہ تھی۔انہوں نے ایسی تمام خواتین کے لیے جن کے خاوند بے اولاد فوت ہوجائیں لازمی قراردے رکھاتھا۔کہ اگرچند بھائی اکٹھے رہتے ہوں اوران میں سے کوئی بے اولاد فوت ہوجائے تواس کانکاح نہ کسی دوسرے آدمی سے کیاجائے بلکہ اس کے شوہر کابھائی یعنی دیور اس سے خلوت کرے اسے اپنی بیو ی بنائے اوربھاوج کاحق اسے اداکرے۔تویوں ہوگا کہ پہلا بچہ جوپیداہوگا وہ متوفی بھائی کے نام سے منسوب ہوگاتاکہ اس کانام اسرائیل سے نہ مٹ جائے۔اگریہ اس کاشوہر بننے سے انکاری ہوجائے،تواس کے بھائی کی بیوی ججوں کے سامنے اس کے نزدیک اپنے پاؤں کی جوتی نکالے اسکے منہ پرتھوک دے اورکہے کہ اس شخص کے ساتھ جواپنے بھائی کاگھرنہ آبادکرے یہی کیاجائے گا۔اور اسکا نام یہ رکھاجائے گا کہ یہ اس شخص کاگھرہے جس کاجوتا اتارا گیاہے''۔۲۲؎

عیسائیوں کے ہاں

٭ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:

کلیسانے عورت کی حیثیت یہاں تک گرادی کہ ۵۸۱ء؁ میں آئمہ کلیسائی مجلس منعقدہ کولون اس بات پرزورداربحث ہوئی کہ عورت انسان بھی ہے کہ نہیں بڑی ردوقدح کے بعد اسے معمولی اکثریت کے ساتھ انسان تسلیم کیاگیا۔''۲۳؎

جس کی عربی عبارت یہ ہے:

''حتی انہافی جمع ماثون سنۃ ۵۷۱م جری بحث فیہا،إذا کان للمرأۃ نفس وعما إذاکانت تعبر من

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت