الصفحة 123 من 555

{ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَائِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا} [1]

'' والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑجائیں اس میں مردوں کا حصہ ہوتا ہے ۔ اور والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہوتا ہے چاہے مال تھوڑا ہو یا زیادہ ۔ اور یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کر دئیے گئے ہیں ۔ ''

چنانچہ اسلام نے عورت کو بھی وراثت کا حقدار قرار دیا اور اسے اس سے محروم نہیں کیا ۔ ترکہ میں عورت کو کتنا حصہ دیا گیا ہے اس کی تفصیل سورۃ النساء کے دوسرے رکوع میں موجود ہے ۔

3۔ باپ کی بیوی کو اس کی موت کے بعد حلال سمجھا جاتا تھا

زمانۂ جاہلیت میں ایک بیٹا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی ( اپنی سوتیلی ماں ) سے نکاح کرلیتا تھا جبکہ اسلام نے اسے حرام کردیا اور اسے بدکاری ، غضب کا موجب اور بدترین شیوہ قرار دیا ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِّنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَّسَائَ سَبِیْلًا } [2]

'' اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گذر چکا ہے ۔ یہ بے حیائی کا کام ، بغض کا سبب اور بڑی بری راہ ہے ۔ ''

تو یہ بھی اسلام میں عورت کی تکریم کی ایک واضح دلیل ہے ۔

4۔دو بہنوں سے بیک وقت نکاح

زمانۂ جاہلیت میں دو بہنوں سے بیک وقت نکاح کرنا درست تھا جبکہ اسلام نے اسے حرام قرار دے دیا ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

{ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ ۔۔۔۔وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ} [3]

'' تم پر حرام کردی گئی ہیں تمھاری مائیں ۔۔۔ اور دو بہنوں کو (ایک شخص کے نکاح میں ) جمع کرنا بھی حرام ہے الا یہ کہ جو (عہدِ جاہلیت میں ) گذر چکا ۔ ''

[2] النساء 4:22

[3] النساء4:23

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت