میں اس کی تسبیح کیجئے ۔ ''
نیز فرمایا: {وَاتَّبِعْ مَا یُوحَی إِلَیْکَ وَاصْبِرْ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ وَہُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِیْنَ} [1]
'' آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع کیجئے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ ''
اسی طرح اس کا فرمان ہے: {رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا فَاعْبُدْہُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہِ} [2]
'' وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک ہے ، لہٰذا اسی کی عبادت کیجئے اور اس کی عبادت پر ڈٹے رہئے ۔ ''
نیز فرمایا: {وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلَاۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا} [3]
'' اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر جمے رہئے ۔ ''
اور دوسری قسم ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سیاجتناب کرنے پر ڈٹے رہنا ۔
امام ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
'' صبر کی تین قسمیں ہیں: اوامر الٰہی پر ہمیشہ عمل کرتے رہنا ، اس کی نواہی سے ہمیشہ پرہیز کرنا اور قضاء وقدر پر ناراضگی کا اظہارنہ کرنا ۔'' [4]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو صبر کی ان تینوں اقسام پر عمل کرنے کی توفیق دے ۔ آمین
[2] مریم19: 65
[3] طہ20: 132
[4] مدار ج السالکین:165/1