رکعات پڑھتے تھے اور کبھی کبھی زیادہ بھی پڑھ لیتے جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا ۔ [1]
2۔نمازِ چاشت کی فضیلت
پہلی حدیث: حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
(( یُصْبِحُ عَلٰی کُلِّ سُلَامیٰ مِنْ أَحَدِکُمْ صَدَقَۃٌ،فَکُلُّ تَسْبِیْحَۃٍ صَدَقَۃٌ،وَکُلُّ تَحْمِیْدَۃٍ صَدَقَۃٌ ، وَکُلُّ تَہْلِیْلَۃٍ صَدَقَۃٌ،وَکُلُّ تَکْبِیْرَۃٍ صَدَقَۃٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَۃٌ،وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَرِ صَدَقَۃٌ ،وَیُجْزِیئُ مِنْ ذٰلِکَ رَکْعَتَانِ یَرْکَعُہُمَا مِنَ الضُّحٰی ) ) [2]
'' تم میں سے ہر شخص کے ہر جوڑ پر ہر دن صدقہ کرنا ضروری ہے۔ پس ہر (سبحان اللہ ) صدقہ ہے ، ہر (الحمد للہ ) صدقہ ہے ، ہر ( لا إلہ إلا اللہ ) صدقہ ہے ، ہر (اللہ اکبر ) صدقہ ہے، نیکی کا ہرحکم صدقہ ہے ، برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب سے چاشت کی دو رکعات ہی کافی ہو جاتی ہیں۔ ''
دوسری حدیث: حضرت بریدۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( فِیْ الْإِنْسَانِ ثلَاَثُمِائَۃٍ وَّسِتُّوْنَ مِفْصَلًا ، فَعَلَیْہِ أَنْ یَّتَصَدَّقَ عَنْ کُلِّ مِفْصَلٍ بِصَدَقَۃٍ ) )
'' ہر انسان میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور اس پر لازم ہے کہ وہ ہر جوڑ کی جانب سے ایک صدقہ کرے ۔'' صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے نبی ! کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: (( اَلنَّخَاعَۃُ فِیْ الْمَسْجِدِ تَدْفِنُہَا ، وَالشَّیْئُ تُنْحِیْہِ عَنِ الطَّرِیْقِ، فَإِنْ لَّمْ تَجِدْ فَرَکْعَتَا الضُّحٰی تُجْزِئُکَ [3] ) )
'' مسجد میں پڑی تھوک کو دفن کردو اور راستے پر پڑی چیز کو ہٹا دو ۔ اگر تم یہ نہ پاؤ تو چاشت کی دو رکعتیں کافی ہو جائیں گی ''
تیسری حدیث: حضرت نعیم بن ھمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ ! لَا تُعْجِزْنِیْ مِنْ أَرْبَعِ رَکْعَاتٍ فِیْ أَوَّلِ النَّہَارِ ،أَکْفِکَ آخِرَہُ ) ) [4]
[2] صحیح مسلم:720
[3] سنن أبی داؤد:5242 ، أحمد:354/5۔ وصححہ الألبانی
[4] سنن أبی داؤد:1289۔ وصححہ الألبانی