فهرس الكتاب
ان تینوں میں سے سب سے بہتر شخص تیسرا ہے ، اس کے بعد دوسرا اور سب سے بد تر انسان پہلا ہے جو کہ موت سے مکمل طور پر غافل رہتا ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( أَکْثِرُوْا ذِکْرَ ہَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتَ،فَإِنَّہُ لَمْ یَذْکُرْہُ أَحَدٌ فِیْ ضَیْقٍ مِّنَ الْعَیْشِ إِلَّا وَسَّعَہُ عَلَیْہِ [1] ) )
'' لذتوں کو ختم کردینے والی چیز یعنی موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کیا کرو ، کیونکہ جو شخص بھی اسے تنگ حالی میں یاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوشحال بنادیتا ہے ۔ ''
اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ اچانک ایک انصاری آیا ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا ، پھر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! مومنوں میں سب سے افضل کون ہے ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( أَحْسَنُہُمْ أَخْلاَقًا ) )
'' ان میں جو سب سے اچھے اخلاق والا ہو ۔''
اس نے پھر پوچھا: مومنوں میں سب سے زیادہ عقلمند کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَکْثَرُہُمْ لِلْمَوْتِ ذِکْرًا وَأَحْسَنُہُمْ لِمَا بَعْدَہُ اسْتِعْدَادًا،أُولٰئِکَ الْأکْیَاسُ ) )
'' ان میں جو سب سے زیادہ موت کویاد کرنے والا ہواور جو موت کے بعد آنے والے مراحل کیلئے سب سے زیادہ تیاری کرنے والا ہو وہی لوگ زیادہ عقلمند ہیں ۔ '' [2]
الدقاق کا کہنا ہے کہ جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اس کا تین طرح سے اکرام کیا جاتا ہے: ایک یہ کہ اسے جلدی توبہ کرنے کی توفیق مل جاتی ہے ۔ دوسرا یہ کہ جتنا ملتا ہے اسے اتنے پر قناعت نصیب ہوتی ہے ۔ اور تیسرا یہ کہ اسے عبادت میں لذت اور نشاط محسوس ہوتی ہے ۔ اور جو شخص موت کو بھلا دیتا ہے اسے تین طرح سے سزا دی جاتی ہے: ایک یہ کہ اسے جلدی توبہ کرنے کی توفیق نہیں ملتی ۔ دوسرا یہ کہ جتنا آتا ہے اس پر قناعت نصیب نہیں ہوتی ۔ اور تیسرا یہ کہ عبادت میں سستی اور بے دلی محسوس ہوتی ہے ۔
اور اللہ رب العزت کے اس فرمان: { اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا} [3]
'' (اللہ وہ ہے ) جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے کون زیادہ
[2] سنن ابن ماجہ:4259۔ وصححہ الألبانی
[3] الملک67:2