'' کیا تمھیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم اہل جنت کا تیسراحصہ ہو گے ؟''
حضرت عبد اللہ کہتے ہیں: ہم نے ( خوشی کے مارے ) پھر اللہ اکبر کہا ۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنِّیْ لَأرْجُوْ أَنْ تَکُوْنُوْا شَطْرَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ) )
'' میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ تم اہلِ جنت کا آدھا حصہ ہو گے۔ ''
میں تمھیں عنقریب اس کے بارے میں خبر دوں گا ، مسلمان کافروں کے مقابلے میں ایسے ہونگے جیسے ایک سیاہ رنگ کے بیل پر ایک سفید رنگ کا بال ہو ۔ یا ( آپ نے فرمایا: ) جیسے سفید رنگ کے بیل پر ایک سیاہ رنگ کا بال ہو ۔ '' [1]
(۱۹) جنت میں داخل ہونے والاسب سے آخری شخص
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
'' جنت میں داخل ہونے والا سب سے آخر ی شخص وہ ہو گا جو اس حالت میں آئے گا کہ کبھی چلے گا اور کبھی گر پڑے گا ۔ کبھی آگ اسے تھپیڑے مارے گی اورجب وہ اسے ( آگ کو) عبور کر جائے گا تو پیچھے مڑ کر دیکھے گا اور کہے گا: بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی ہے ۔ یقینا اللہ نے مجھے وہ چیز عطا کردی ہے جو اس نے پہلوں اور پچھلوں میں سے کسی کو عطا نہیں کی ۔ پھر ایک درخت اس کے سامنے بلند کیا جائے گا تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ میں اس کے سائے میں چلا جاؤں اور اس کے (قریب بہتے ہوئے ) پانی سے پیاس بجھا سکوں ۔
اللہ تعالیٰ کہے گا: اے ابنِ آدم ! اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو شاید تو پھر کوئی اور سوال بھی کرے گا ؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب ۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرے گا کہ وہ کوئی اور سوال نہیں کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ بھی اسے معذور سمجھے گا کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کو دیکھ رہا ہو گا جس سے صبر کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کردے گا ۔ تو وہ اس کے سائے میں چلا جائے گا اور اس کے پانی سے پیاس بجھائے گا ۔
پھر ایک اور درخت اس کے سامنے بلند کیا جائے گا جو پہلے درخت سے زیادہ اچھا ہو گا ۔ وہ کہے گا:اے