فهرس الكتاب
مجاہدوں نے اس مسجد کے اندر سجدے کئے ہیں۔ [1]
طرف معمار خرد تاریخ سال گفت زیبا مسجد از افراز خاں
دوسرے مصرع سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دروازہ 1082ھ میں تعمیر کیا کیا تھا۔ لالہ کنہیالال کے خیال کے مطابق دوسال کے عرصے میں مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی ہو گی۔ یہ مسجدہ فن تعمیر کا لاجواب شاہکار تھی۔ تاریخ لاہور اور تحققات چشتی میں اس کا نقشہ بیان ہوا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسجد سطح زمین سے خالی بلند ی پر بنائی گئی تھی۔ اس کے ایک طرف دکانیں تھیں۔ صحن میں حوض تھا ۔ سکھوں کے دور حکومت میں دیگر مساجد کی طرح اس مسجد کو بھی بڑا نقصان پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ مسجد میں تہہ خانہ بھی تھا ۔ امتداد زمانہ کے ساتھ اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ منشی کنہیالال یا مولوی نور احمد چشتی میں سے کسی نے بھی مسجدمیں تہہ خانے کا ذکر نہیں کیا۔ مولوی نور احمد نے تحقیقات چشتی 1867ء میں لکھی ۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ تیس سال قبل تین دکانیں آدھی نظر آتی تھی۔ لیکن اب وہ ''غرق فی الارض'' ہو گئی ہیں ۔ یعنی یہ 1837ء کے لگ بھگ کی بات ہو گی۔ منشی کنہیالال نے 1882ءمیں تاریخ لاہور لکھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ''مسجد کا شمالی دریچہ جو زمین