کا اصل مقصد مسلمانوں کا آپس میں ذاتی خود غرضی اور طمع کے بجائے ایثار و رفاقت سے کام لینا ہے اور سلسلہ مؤاخات میں یہ مقصد پہلے ہی بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ یعنی انصار تواس بات پر بھی تیار تھے کہ اپنی زمین مزارعت یا بٹائی پر دینے کے بجائے مہاجرین کو آدھی زمین کا مالک بنا دیںلیکن مہاجرین کی خود داری نے انصار کے اتنے بڑے ایثار اور قربانی کو قبول نہ کیا تو اب اس کی دوسری صورت یہی باقی رہ جاتی تھی کہ انصار کی زمین یا نخلستان میں مہاجر کام کریںاور پیداوار نصف نصف تقسیم کر لی جائے۔ مہاجرین وانصار کا یہ معاہدہ اگرچہ اپنی ظاہری شکل میںمزارعت ہی نظرآتاہے لیکن مقصد کے لحاظ بالکل مختلف ہے۔ لہٰذا اس واقعہ کو بٹائی کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
۳۔ منکرین مزارعت کی طرف سے اپنے موقف کی صحت کی تائید میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بٹائی سے رجوع کے واقعہ کو بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا جواب قائلین کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ:
(زادالمعاد ج۱ نمبر صفحہ۶۲۶ بحوالہ مسئلہ ملکیت زمین صفحہ نمبر ۶۷)
مندرجہ بالا تصریحات سے معاملہ زیر بحث کے بہت سے پہلو سامنے آگئے ہیں۔ یہ تسلیم ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زہد و ورع کے معاملہ میں حد درجہ محتاط تھے لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بھی تسلیم کرلینا چاہیے کہ جس قدرحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سخت تھے اسی قدر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نرم تھے۔