جب خان صاحب نے اپنے مہدی ومسیح ہونے کی معرفت حاصل کر لی تواِس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ لوگ اُنہیں اِس حیثیت سے قبول نہیں کریں گے جسپر وہ پیغمبروں پر ایمان نہ لانے کی مثالیں بیان کرنے لگے۔ خان صاحب لکھتے ہیں:
'' قدیم زمانے کے یہود نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے منتظر تھے ، مگر اُن کا حال یہ ہوا کہ جب پیغمبر آئے تو وہ ان کا انکار کرنے والے بن گئے۔ یقینی طور پر یہی واقعہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والا ہے۔ مہدی اور مسیح جب ظاہر ہوں گے تو موجودہ مسلمان یقینی طور پر اُن کا انکار کرنے والے بن جائیں گے۔'' (ماہنامہ الرسالہ: جنوری ۲۰۱۱ء، ص ۴۳)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
'' اس استثنائی صفت کے باوجود جو لوگ اُس [مہدی] کو نہ پہچانیں، وہ اُسی قسم کے اندھے پن میں مبتلا ہیں، جس اندھے پن کی بنا پر لوگوں نے پچھلے پیغمبروں کو نہیں پہچانا اور وہ اُن کے منکر بنے رہے۔'' (ماہنامہ الرسالہ: مئی ۲۰۱۰ء، ص ۵۱)
خان صاحب کے بقول مہدی ایک استثنائی معاملہ (exceptional case) ہو گا۔ لہٰذا اُسے نہ پہچان پانا اندھے ہونے کے برابر ہے۔ خان صاحب نے یقینا مہدی ومسیح کو پہچان لیا ہے اور اِس مہدی و مسیح کی پہچان لوگوں کے لیے آسان بنانے میں اُن کی