الصفحة 128 من 181

کرکے نماز ادا کرلے، اس کی ایسی صلوٰۃ بھی اللہ کے ہاں قابل قبول ہوگی۔ ان شاء اللہ)

۳:غزوات و سرایا اور جہاد فی سبیل اللہ لاعلائے کلمۃ اللہ کے ذریعے لڑی جانے والی تمام جنگوں سے حاصل ہونے والی غنیمتوں کے اموال میرے لیے (اور میری اُمت کے لیے) حلال کردیے گئے ہیں۔

۴:پہلے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے ہر نبی کسی نہ کسی ایک خاص قوم (قبیلہ یا کسی خاص ملک و خطہ والوں) کے لیے مبعوث ہوا کرتا تھا اور مجھے دنیا جہان کے تمام انسانوں اور جنوں کے لیے تاقیامت نبی اور رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ [1]

۵:اور مجھے قیامت والے دن اہل ایمان و توحید کے لیے شفاعت کا حق بھی عطا ہواہے۔ [2]

[2] دیکھئے: صحیح البخاري/ کتاب الصلاۃ/ باب قول النبیؐ جُعِلت لي الارض… حدیث: ۴۳۸۔

اس موضوع پر تفصیل کے لیے: (۱) سورۂ طہٰ کی آیت نمبر ۱۱۹ کی تفسیر میں صحیحین کی احادیث۔ (۲) سورۃ الزمر کی آیت نمبر ۴۳ اور ۴۴ کی تفسیر۔ (۳) سورۃ البقرہ کی آیت نمبر ۲۵۵ آیۃ الکرسی کی تفسیر۔ (۴) صحیح مسلم/ کتاب الایمان کی حدیث نمبر ۴۷۵ تا حدیث نمبر ۴۹۹۔ (۵) صحیح البخاری، حدیث نمبر ۴۴۷۶، نمبر ۶۵۶۴ تا حدیث نمبر ۶۵۶۷ وحدیث نمبر ۷۴۱۰ اور کتاب التوحید کا باب کلام الرب تعالیٰ یوم القیامۃ مع الانبیاء وغیرھم / حدیث نمبر: ۷۵۰۹ تا حدیث ۷۵۱۴ اور باب ماجاء فی قول اللہ عزوجل: وکلم اللہ موسیٰ تکلیمًا/ حدیث نمبر ۷۵۱۵ تا حدیث نمبر ۷۵۱۷ کا مطالعہ کرلیجیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت