فهرس الكتاب
مسواک کرتے تھے اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو بھی سب سے پہلے مسواک ہی کرتے تھے۔
س:۱۶۳… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات والے دنوں کے نفلی روزے کثرت سے کیوں رکھتے تھے؟
ج:۱۶۳… سیّدنا ابوقتادہ انصاری اور سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزوں میں سے اکثر سوموار اور جمعرات کے دنوں کے روزے رکھتے اور جب آپ سے اس بارے میں سوال ہوا تو فرمایا:
(( تَعْرَضُ الْأَعْمَالُ یَوْمَ الْاِثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ، فَأُحِبُّ أَنْ یُعْرَضَ عَمَلِيْ وَأَنَا صَائِمٌ۔ ) ) [1]
'' ہر سوموار اور جمعرات والے دن بندوں کے اعمال اللہ عزوجل کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال اللہ کے سامنے پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔ ''
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ:
'' بندوں کے اعمال ہر سوموار اور ہر جمعرات کے دن اللہ عزوجل کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور پھر اللہ تبارک وتعالیٰ ہر مومن مسلمان کو بخش دیتے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوں سوائے اس آدمی کے جس کا جھگڑا اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی سے چل رہا ہو۔ ان دونوں کے بارے میں حکم ہوتا ہے کہ انھیں رہنے دو حتی کہ باہم صلح کرلیں۔ '' [2]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سوموار والے دن کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:'' یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ نے مجھے پیدا فرمایا اور اسی دن میں میرے اوپر نبوت اور وحی کا آغاز
[2] صحیح مسلم/ حدیث: ۶۵۴۶۔