ایمان رکھتے تھے کہ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام اللہ کا بیٹا ہیں۔ اور ایسے بھی تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ (بنو اسرائیل کے ایک پیغمبر) جناب عزیر علیہ السلام اللہ کا بیٹا ہیں۔ [1] یا پھر ایک اکثریت یہ فاسد عقیدہ رکھتی تھی کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ [2] اور کچھ یہ گمان رکھتے تھے کہ (نعوذ باللہ)
[2] جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اُس دور کے مشرکوں کی اس غلیظ حرکت اور فاسد عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: {وَیَجْعَلُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَہٗ وَلَھُمْ مَّا یَشْتَھُوْنَ o} (النحل:۵۷) ''اور کہتے ہیں اللہ کی بیٹیاں ہیں (فرشتوں کو اللہْ کی بیٹیاں بناتے ہیں ) وہ پاک ذات ہے، اور اُن کو من مانے بیٹے ملے۔'' {فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّکَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ o اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓئِکَۃَ اِِنَاثًا وَہُمْ شٰہِدُوْنَ o اَ لَآ اِِنَّہُمْ مِّنْ اِِفْکِہِمْ لَیَقُوْلُوْنَ o وَلَدَ اللّٰہُ وَاِِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ o اَصْطَفَی الْبَنَاتِ عَلَی الْبَنِیْنَ o مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ o اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ o اَمْ لَکُمْ سُلْطٰنٌ مُّبِیْنٌ o فَاْتُوا بِکِتٰبِکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ o} (الصافات:۱۴۹ تا ۱۵۷) ''اب ان (مکہ کے) کافروں سے پوچھ کیا تیرے مالک کے لیے بیٹیاں ہیں اور اُن کے لیے بیٹے ہیں ، یا ہم نے فرشتوں کو عورت ذات بنایا اور وہ دیکھ رہے تھے۔ سُن لے یہ اُن کا جھوٹ ہے۔ کہتے ہیں اللہ کی اولاد ہے اور وہ بے شک جھوٹے ہیں۔ بھلا کیا اس نے بیٹوں پر بیٹیوں کو پسند کیا۔ تم کو کیا ہوا ہے تم کیسا حکم لگاتے ہو۔ کیا تم سوچتے نہیں۔ یا تمہاے پاس ( اس بات کی ) کوئی کھلی سند ہے۔ اگر سچے ہو تو اپنی کتاب لے کر آؤ۔'' عرب کے بعض قبائل کا عقیدہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اسی کی تردید اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمائی۔ قرآن میں متعدد مقامات پر اسی جاہلی عقیدہ کی تردید کی گئی ہے۔ مثلًا نساء آیت ۱۱۷، نحل آیت ۵۷،۵۸، بنی اسرائیل آیت ۴۰، زخرف آیت ۱۶تا ۱۹ ، نجم آیت ۲۱تا ۲۷۔