(دوسرے جنوں) کے پاس لوٹ گئے اُن کو (اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے لگے۔ (بھائیو! ہم ایک کتاب سن کر ائے ہیں جو موسیٰ کے بعد اتری ہے، وہ اگلی(آسمانی) کتابوں کو سچ بتاتی ہے اور سچا دین اور سیدھا رستہ دکھلاتی ہے۔ بھائیو! اللہ کی طرف بلانے والے کا کہنا مانو اور اس پر ایمان لاؤ اللہ تمہارے گناہ (یا کچھ گناہ) بخش دے گا اور تم کو تکلیف کے عذاب سے (آخرت کے عذاب سے) بچادے گا اور جو کوئی اللہ کی (طرف) بلانے والے (اس پیغمبر) کا کہنا نہ مانے گا، وہ اللہ تعالیٰ کو(کہیں ساری زمین پر تھکا نہیں سکتا اور اللہ کے سوا کوئی اس کا حمایتی نہیں ہوسکتا۔ ایسے ہی لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ '' [1]
س:۳۳… مشرکین نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو '' ابتر '' بھی کہا تھا۔ اس لفظ ابتر کا معنی و مفہوم کیا ہے؟ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسا کیوں کہا تھا؟ اور پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُن کا جواب کس طرح سے دیا؟