فهرس الكتاب

الصفحة 463 من 564

(( لَیْسَ الْکَذَّابُ الَّذِیْ یُصْلِحُ بَیْنَ النَّاسِ فَیَنْمِیْ خَیْرًا أَوْ یَقُوْلُ خَیْرًا ) ) [1]

''وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے مابین صلح کراتا ہے پس وہ بھلی بات آگے پہنچاتا ہے یا بھلی بات کہتاہے۔''

نیز ارشاد نبوی ہے:

(( لَا یَحِلُّ الْکَذِبُ إِلَّا فِیْ ثَلَاثٍ اَلرَّجُلُ یُحَدِّثُ امْرَأَتَہُ لِیُرْضِیَہَا، وَ الْکٰذِبُ فِی الْحَرْبِ، وَالْکَذِبُ لِیُصْلِحَ بَیْنَ النَّاسِ۔ ) ) [2]

''جھوٹ صرف تین چیزوں میں جائز ہے، آدمی کا اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے گفتگو میں جھوٹ بولنا، جنگ میں جھوٹ، لوگوں کے مابین صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔''

ایسا اس لیے ہے کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف و انتشار بہت خطرناک چیز ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے:

(( إِیَّاکُمْ وَ سُوْئَ ذَاتِ الْبَیْنِ فَإِنَّہَا الْحَالِقَۃُ۔ ) ) [3]

''باہمی بگاڑ اور اختلاف سے بچو، بلاشبہ یہ چیز ہلاک و برباد کرنے والی ہے۔''

یعنی ایسی چیز جو دین کو ختم کردے جس طرح استرا بالوں کو ختم کردیتا ہے۔ [4]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح کے اجر عظیم کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

(( أَ لَا أُخْبِرُکُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَۃِ الصِّیَامِ وَ الصَّلَاۃِ وَ الصَّدَقَۃِ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: إِصْلَاحٌ ذَاتِ الْبَیْنِ فَإِنَّ فَسَادٌ ذَاتِ الْبَیْنِ ہِیَ الْحَالِقَۃُ۔ ) ) [5]

''کیا میں تمھیں روزہ، نماز اور زکوٰۃ سے بہتر چیز نہ بتلا دوں ؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ نے فرمایا: وہ باہمی صلح اور میل ملاپ ہے، بلاشبہ باہمی بگاڑ ہلاک و برباد کردینے والی چیز ہے۔''

اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے نواسے حسن رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں بڑی امید تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے

[2] سنن أبی داؤد مع عون المعبود ۱۳؍۲۶۳، حدیث نمبر ۴۹۰۰

[3] سنن الترمذی حدیث نمبر ۲۵۰۸، امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ صحیح حدیث ہے۔

[4] جامع الأصول لابن الاثیر ۶؍۶۶۸

[5] سنن الترمذی حدیث نمبر ۲۵۰۹، امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت