الصفحة 236 من 467

حج فیس کی معافی

شاہ عبدالعزیز کے دیگر کا رناموں کےعلاوہ ایک کارنامہ حج فیس کی معافی ہے۔ 1952تک حجاج سے فیس لی جاتی تھی انہوں نے اسی حج کے دوران کہا کہ میری خواہش ہے کہ حجاج سے کسی قسم کی حج فیس نہ لی جائے۔

خیر الدین الزر کلی شاہ عبدالعزیز کے سیکرٹری یوسف یاسین کی زبانی ذکر کرتے ہیں کہ ایک دن شاہ عبدالعزیز نے کہا۔

'' ابن سلیمان (وزیر مالیات) کو ٹیلیگرام دیدو کہ حج کی فیس ختم کی جائے۔ '' شیخ یوسف یاسین نے ان کی ہدایت کےمطابق ٹیلیگرام دے دی۔ شیخ ابن سلیمان بھاگا ہوا آیا اور شاہ عبدالعزیز سے درخواست کرتے ہوئے کہا۔

'' اللہ تعالیٰ آپ کی عمر لمبی کرے۔ تیس ملین ریال کی بات ہے۔ میں بجٹ کیسے پورا کروں گا۔'' شاہ عبدالعزیز نے جواب دیا۔

''تم خود انتظام کرو۔ اب یہ فیس معاف ہے '' یہ بھی شاہ عبدالعزیز کے ایمان کی پختگی اور ان کی نیک خواہش تھی جسے انہوں نے حجاج کے لیے پورا کیا۔ فیس کی یہ معافی ان کا عظیم کا رنامہ تصور کیا جاتا ہے اور آج تک مملکت سعودی عرب کی حکومت حاجیوں سے کوئی فیس نہیں لیتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت