فهرس الكتاب

الصفحة 103 من 665

ہندوایران کے شاعروں نے قطعات تاریخ کے ذریعے سے اپنافرض ماتم ادا کیا۔اُن سب کوجمع کرنا تو سخت دشوار ہے، کیونکہ آپ کے انتقال کے بعد سے غالبًا پورے سال بھر تک بعض ہفتہ وار اخبار اُردو کی ہراشاعت میں قطعات اور مادہ ہائے تاریخ مسلسل بالالتزام شائع ہوتے رہے۔ہم صرف بعض قطعات تاریخ ومادہ ہائے تاریخ پراکتفا کرتے ہیں۔

"مولوی حکیم مختاراحمد صاحب حنفی ساکن موضع کرہٹیا ضلع مظفر پور نے ایک قطعہ تاریخ عربی میں لکھا جو خصوصیت کے ساتھ اس لیے سب سے پہلے لکھے جانے کے قابل ہے کہ بیس شعروں کا قطعہ ہے اور ہر مصرع بجائے خود بغیر تعمیہ وتخرجہ کے تاریخ ہے جس سے 21۔1320 ہجری نکلتے ہیں یا 11و1310 فصلی۔

" پچھلے دس شعروں میں اس سوانح عمری کا بیان ہے۔ان مصرعوں سے 101۔1320ھ و11۔1310 فصلی نکلتے ہیں، جن سنوں میں سوانح عمری لکھنے کی ابتدا کی گئی اورلکھی جاتی تھی۔بعض موانع کے سبب سے بہت دنوں تک سوانح نگاری کا کام بند رہا اس لیے اس کی اشاعت میں بھی غیر معمولی توقف ہوا اور سن بھی بدل گئے مہذا اس قطے میں بڑی محنت کی گئی ہے، کیونکہ چالیسوں مصرعے چالیس مادہ تاریخ پر مشتمل ہیں اور بجائے بسم اللہ کے جو عبارت لکھی گئی ہے وہ بھی مادہ تاریخ ہے۔اس طرح اکتالیس تاریخیں ہیں اور چونکہ تعمیہ وتخرجہ سے ہرمصرع پاک ہے، اس لیے حک وتبدیل کی گنجائش نہیں۔کوئی لفظ یا حرف بدل نہیں سکتا جب تک بدل ومبدل منہ کے حروف اور اعداد برابر نہ ہوں۔

بسم اللّٰه المفيض العليم

فات نور الفرقه السبحانيه انه احي الاصول الغاليه

ربنا اكرم بهذا وافيا انت معطي العافيات العاليه

فيضه نهر مجيد باقي فضله عن البلاد الصافيه

كا ن بحر الخلق او عين العلي كان تاج المدركات الباتيه

مخزن الطلابيل شمس الوفا شيخ اصحاب العقول الجاويه

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت