قد مات من مات العلوم بموته
لا سيما الاخبار والتفسير
تبكي عليه مساجد ومنابر
ولأهل علم رنة وزفير
قد كان مجتهدًا مصيبًا ناسكا
يحمي الشرائع سعيه المشكور
متخاشعًا للّٰه منقادًا له
متلألئًا من وجهه التنوير
نقاد إسناد الحديث متنه
كشاف أسرار الكتاب بصير
لما سألت القلب عام وفاته
فأجابني تاريخه مغفور.
ان اشعار کا ترجمہ یہ ہے۔
جس مصیبت نے ہماری جانوں کو تباہ کردیا وہ بہت بڑی ہے اور لوگوں پر زمانہ اسی قسم کے ظلم ڈھاتا ہے۔
ہدایت و رہنمائی کے ستون ہی کمزور پڑگئے اور ہلنے لگے اور دین کو ضعف واضمحلال نےبیمار کردیا۔
نصف النہار کا سورج غروب ہو گیا اور اس کی تاہانیاں غائب ہو گئیں تو ہمارا دن بھی ہماری رات کی طرف سیاہ و تاریک ہے۔
جو شخص فوت ہو گیا یقینًا اس کی موت سے تمام علوم مر گئے، خصوصًا احادیث و تفسیر کے علوم۔
اس کی وفات پر مسجدیں اور منبر بھی رو رہے ہیں۔ اہل علم بھی غم ناک ہیں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی ہیں۔
وہ مجتہد، راست روا ور عبادت گزار تھے، وہ نیکی کی راہوں کی حمایت کرتے تھے، اور ان کی کوشش کی قدر کی جاتی تھی۔
اللہ کے لیے عاجزی کرنے والے تھے اور اس کے فرمانبردار تھے۔ ان کے چہرے پر روشنی چمک رہی تھی۔