تھا کچھ ان میں سے ایماندار ہیں اور اکثر ان میں سے نافرمان ہیں ۔'' [1]
اس آیت سے استدلال کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اس امت کی خیر و بھلائی کو ماضی کی تمام امتوں پر مطلق طور پر ثابت کیا گیاہے۔اور اس خیر وبھلائی میں سب سے پہلے وہ لوگ داخل ہوتے ہیں جو کہ ان آیات کے نزول کے وقت براہ راست مخاطب تھے اوروہ ہیں صحابہ کرام اور اس آیت کا تقاضا ہے کہ یہ حضرات ہر حال میں استقامت پر رہیں اور یہ بات بعید از قیاس ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی امت کے بارے میں فرمائیں کہ وہ بہترین امت ہیں ، لیکن وہ نہ ہی اہل عدل ہوں اور نہ ہی استقامت پر چلتے ہوں ۔ کیا خیر و بہتری یہی ہوتی ہے؟اور ایسے ہی یہ بھی جائز نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے وسط یعنی عادل امت ہونے کی خبر دیں اور وہ ویسے نہ ہوں ۔'' [2]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:'' یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔'' صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا۔''
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:'' تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو۔'' امام ترمذی نے اس مشہورحدیث کوحسن کہا ہے۔ اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں ، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں ملی تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹنے والی امت بھی سب سے اعلی و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے۔یہی وہ اہل ایمان کا گروہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ بہترین لوگ قرار دے رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جنت کی بشارتیں سنارہے ہیں ۔'' (مترجم)
[2] الموافقات للشاطبي ۴؍۴۰۔