فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 121

{وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ} [1]

[ہم نے جس کسی کو بھی منصب رسالت دے کر (دنیا میں) میں بھیجا،اسی لیے بھیجا،کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔]

دوسری جگہ فرمایا:

{وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا۔} [2]

[اور رسول - صلی اللہ علیہ وسلم - جو چیز تمھیں دیں،اسے لے لو،اور جس چیز سے روکیں،اس سے رک جاؤ۔]

اگر غیر نبی کی اس کے ہر قول و فعل میں غیر مقید اطاعت کی جاتی،تو عالَم بشریت شدید تکلیف و مشقت سے دوچار ہوجاتا۔اس بارے میں قرآن کریم کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔

{وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ یُطِیعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ۔} [3]

[اور خوب یاد رکھو،کہ اللہ کے رسول- صلی اللہ علیہ وسلم - تم میں موجود ہیں۔اگر بہت سے معاملات میں،وہ تمھاری رائے پر عمل کرنے لگیں،تو تم مشقت میں مبتلا ہوجاؤ۔]

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی ان باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے،جو معصیت سے پاک اور نیکی پر مبنی ہوں۔ارشاد ہے:

[2] سورۃ الحشر / الآیۃ ۷۔

[3] سورۃ الحجرات / الآیۃ ۷۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت