{وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ} [1]
[ہم نے جس کسی کو بھی منصب رسالت دے کر (دنیا میں) میں بھیجا،اسی لیے بھیجا،کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔]
دوسری جگہ فرمایا:
{وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُوْلُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا۔} [2]
[اور رسول - صلی اللہ علیہ وسلم - جو چیز تمھیں دیں،اسے لے لو،اور جس چیز سے روکیں،اس سے رک جاؤ۔]
اگر غیر نبی کی اس کے ہر قول و فعل میں غیر مقید اطاعت کی جاتی،تو عالَم بشریت شدید تکلیف و مشقت سے دوچار ہوجاتا۔اس بارے میں قرآن کریم کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
{وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ یُطِیعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ۔} [3]
[اور خوب یاد رکھو،کہ اللہ کے رسول- صلی اللہ علیہ وسلم - تم میں موجود ہیں۔اگر بہت سے معاملات میں،وہ تمھاری رائے پر عمل کرنے لگیں،تو تم مشقت میں مبتلا ہوجاؤ۔]
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اولی الامر کی ان باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے،جو معصیت سے پاک اور نیکی پر مبنی ہوں۔ارشاد ہے:
[2] سورۃ الحشر / الآیۃ ۷۔
[3] سورۃ الحجرات / الآیۃ ۷۔