الصفحة 31 من 158

امام صاحب وہا ں سے باہر نکل آئے۔ان کے پیچھے ہی تمام لوگ بھی باہر آگئے۔جی ہاں! سبھی لوگ۔ان تمام لوگوں نے اس بزرگ کے ہاتھ پر توبہ کرلی۔انھوں نے اس دنیا میں اپنے وجود کا بھید اور تخلیق کا مقصد پہچان لیا تھا۔انھیں اس بات کی بھی سمجھ آچکی تھی کہ قیامت کے دن جب اعمال نامے اڑیں گے اور برائیاں بہت بڑھ چکی ہوں گی تو اس وقت انھیں کوئی ڈانس اور کوئی لذت فائدہ نہ دے سکے گی۔اور تو اور خود ڈانس کلب کا مالک بھی توبہ تائب ہوگیا اور وہ بھی اپنے فعلِ ماضی پر نادم و شرمندہ تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت