ہوں اور پوچھوکیوں؟ اس نے پوچھا توزید رضی اللہ عنہ نے فرمایاتاکہ میں اس میں خوب غور و فکر کروں اور اس سے اچھی طرح واقفیت حاصل کروں۔ [1]
ابوجمرۃ [2] سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریا فت کیا ۔ میں بہت تیزی سے قرآن پڑھتا ہوں اور تین دن میں ختم کر دیتا ہوں توانہوں نے فرمایا میں ایک رات میں تدبر و ترتیل سے صرف سورۃ البقرہ پڑھوں تو جس طرح تو پڑھتا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے۔ [3]
عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے کہا میں مفصل ایک ہی رکعت میں پڑھ لیتا ہوں توانھوں نے فرمایا شعروں کی طرح تیز تیز ؟ کچھ لوگ قرآن یوں پڑھتے ہیں کہ وہ ان کی ہنسلیوں سے تجاوز نہیں کرتایہ تو تب ہی نفع دے گا جب دل میں اتر کر پختہ ہو جائے… الحدیث [4]
اورایک روایت میں ہے انہوں نے کہا قرآن کو نہ تو شعروں کی طر ح تیز پڑھو اور نہ ہی ردّی کھجوروں کی طر ح بکھیر و بلکہ اس کی حیر ت انگیزیوں کے پاس ٹھہر کر اپنے دلوں کو رونق بخشو۔
ایک روایت میں ہے۔ قرآن پڑھو اور اپنے دلوں کو روشن کروتمہا را مطمع نظر سورۃ کو ختم کرنانہ ہو۔ [5]
[2] نصر بن عمران ضبعی.
[3] مصنف عبدالرزاق (2/489) اور بیہقی شعب الایمان (5/7) .
[4] صحیح مسلم:صلاۃ المسافرین ( 1/523) .
[5] مصنف ابن ابی شیبہ (2/521) شعب الایمان بیہقی (5/8 ) .