جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغر ب میں سورہ طور پڑھتے ہوئے سنا۔ [1]
اورایک روایت میں ہے میں نے آپ کو سورہ طور پڑ ھتے ہوئے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کریمہ پر پہنچے {أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَیْرِ شَیْء ٍ أَمْ ہُمُ الْخَالِقُون} تومیر ے دل نکلنے کے قریب تھا۔ [2]
مسند احمد کی روایت میں ہے [3] جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ مشرکین کے قید یوں میں تھے۔ بہنر [4] کہتے ہیں وہ بدر کے قیدی تھے۔
ابن جعفر [5] کا بیان ہے اس وقت وہ اسلام نہیں لائے تھے جبیر کہتے ہیں میں پہنچا توآپ مغر ب کی نماز میں سور ہ طور پڑھ رہے تھے کہتے ہیں میں نے جب قرآن سنا تو دل پھٹنے کے قریب تھا ۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہ [6] نے مجھے کون سا وقت یا ددلا دیا ہے یہ آخری سورت جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب کی نما ز میں سنی تھی (متفق علیہ) [7]
عبداللہ بن عتبہ [8] بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغر ب کی نماز میں حٰمٓ الدخان پڑھی ۔ [9]
[2] صحیح بخاری:ابواب التفسیر (5/49) ابن ماجہ (1/272/832) .
[3] دیکھئے: (الفتح الربانی 3/225) .
[4] بہنر بن اسد عمی.
[5] محمد بن جعفر غندر.
[6] ام عبدا للہ ان کا نا م لبابہ ہے اور عباس بن عبدالمطلب کی بیوی ہیں اور اسی طر ح یہ ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن بھی ہیں.
[7] بخاری (185،1) مسلم ( 462،338،1) .
[8] عبداللہ بن مسعود ر رضی اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں کوفہ میں لوگو ں کو امامت کرواتے تھے آپ کی وفات 74ھ میں ہوئی (مشاھیر علماء الا مصار 102) .
[9] النسائی ( 169،2) .